خیبر پختونخوا میں عام بٹیر اور بارشی بٹیر کے شکار کی 15 اکتوبر 2026 تک مشروط اجازت دے دی گئی ہے، تاہم جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو پورے صوبے میں شکار پر مکمل پابندی ہوگی۔

 

شکار کی مقررہ شرائط کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ ایک لائسنس پر روزانہ زیادہ سے زیادہ 15 پرندے پکڑنے کی اجازت ہوگی۔

 

بُلارا یا لاوا کے ذریعے شکار کے لیے لائسنس فیس 8 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ شکار کے لیے کسی بھی قسم کے برقی آلات کا استعمال ممنوع ہوگا۔

 

یہ بھی پڑھیے: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، مردان میں شہد کی مکھیوں کی پرورش مشکلات کا شکار

 

دیگر علاقوں میں شکار کے لائسنس کی فیس 300 روپے مقرر کی گئی ہے۔ شکار سے متعلق یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کے 24 مئی 2024 کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

 

محکمہ وائلڈ لائف کا عملہ پرندوں کی آبادی اور شکار کی صورتحال کی نگرانی کرے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر شکار کی اجازت فوری طور پر ختم کی جا سکتی ہے۔

 

محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق غیر قانونی شکار قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے۔