اگر آپ بھی عینک استعمال کرتے ہیں یا آپ کے گھر میں کوئی عینک لگاتا ہے تو آپ نے عینک کے حوالے سے لوگوں کے یہ جملے ضرور سنے ہوں گے:
“عینک کے بغیر تو تمہیں آگے اندھیرا نظر آتا ہوگا!”
“عینک ہٹاؤ تو تمہاری شکل ہی پہچانی نہیں جاتی، دوسری دنیا کی مخلوق لگتے ہو۔”
“اتنی موٹی عینک لگائی ہے، پھر بھی سامنے پڑی چیز نظر نہیں آ رہی؟”
“عینک کیا لگا لی، خود کو بڑا فلاسفر سمجھنے لگے ہو!”

گھر کے بڑے بھی اکثر عینک لگنے کی وجہ موبائل یا ٹی وی کو قرار دیتے ہوئے کچھ یوں کہتے ہیں:
“دن رات موبائل میں گھسے رہو گے تو یہی ہونا تھا۔”
“اب اس عینک کو اپنے ناک کا زیور بنا کر رکھو۔”
اگرچہ یہ الفاظ اکثر مذاق میں کہے جاتے ہیں، لیکن بعض اوقات انہیں مسلسل سننے سے انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: یہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے، میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: وزیراعلیٰ
عینک کے ساتھ روزمرہ زندگی
عینک پہننا نظر کی کمزوری کو درست کرنے اور آنکھوں کو مزید خراب ہونے سے بچانے کا ایک بہترین اور محفوظ ذریعہ ہے۔ تاہم، مستقل عینک استعمال کرنے سے روزمرہ زندگی میں مختلف تبدیلیاں آسکتی ہیں۔

عینک کا فریم ناک اور کانوں کے پیچھے مسلسل دباؤ ڈالتا ہے، جس سے بعض اوقات وہاں سرخی یا سیاہ نشان پڑ جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ عینک کی وجہ سے ان کے چہرے کے خدوخال بدل گئے ہیں۔ بعض افراد کو لگتا ہے کہ عینک پہننے سے آنکھیں چھوٹی یا دھنسی ہوئی نظر آتی ہیں، حالانکہ یہ عینک کے شیشوں کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے۔

سردیوں میں گرم جگہ سے باہر نکلتے ہوئے یا چائے پیتے وقت عینک کے شیشے دھندلا جاتے ہیں۔ ماسک پہننے کی صورت میں بھی سانس کے باعث شیشوں پر دھند جم جاتی ہے۔ بارش میں شیشوں پر پانی کے قطرے اور گرمیوں میں پسینہ عینک کو بار بار صاف کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ خاص طور پر کچن میں کام کرتے ہوئے یہ صورتحال مزید مشکل محسوس ہوتی ہے۔

وقت کے ساتھ عینک کی عادت بھی ایسی ہو جاتی ہے کہ اس کے بغیر روزمرہ کے معمولی کام بھی مشکل لگنے لگتے ہیں۔ عینک کہیں رکھ کر بھول جانے یا اس کے ٹوٹ جانے کا خوف الگ رہتا ہے۔ شیشوں پر خراشیں پڑ جائیں یا عینک کہیں گم ہو جائے تو ایک نئی پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔
کیا عینک سے نظر مزید کمزور ہوتی ہے؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عینک لگانے سے نظر مزید کمزور ہو جاتی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔

عینک پہننے سے نظر کمزور نہیں ہوتی۔ البتہ عمر کے ساتھ نظر میں تبدیلی آنا ایک قدرتی عمل ہے اور بعض لوگوں میں نظر کی کمزوری وقت کے ساتھ بڑھ بھی سکتی ہے۔
لوگوں کے طنزیہ اور مزاحیہ القابات
ہمارے معاشرے میں عینک پہننے والوں کو، خاص طور پر بچپن یا لڑکپن میں، دوستوں، کزنز اور آس پاس کے لوگوں کی طرف سے کئی مزاحیہ، طنزیہ اور روایتی القابات سننے پڑتے ہیں۔ یہ الفاظ عام طور پر تفریح یا چھیڑنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
چار آنکھیں
چار آنکھیں عینک پہننے والوں کے لیے سب سے پرانا اور عام لقب ہے، جو شاید تقریباً ہر عینک پہننے والے نے کبھی نہ کبھی ضرور سنا ہوگا۔

چشمیش، چشمو
چشمیش، چشمو عینک یا چشمے سے نکلنے والے یہ الفاظ بھی کبھی پیار اور کبھی چھیڑنے کے انداز میں بولے جاتے ہیں۔
پڑھاکو، مٹو، آئن اسٹائن
عینک لگانے والے کو خواہ پڑھائی میں زیادہ دلچسپی ہو یا نہ ہو، لوگ صرف عینک کی وجہ سے اسے بڑا سائنسدان یا کتابی کیڑا سمجھنے لگتے ہیں۔
عینک والا جن
بچپن میں کارٹونز یا ڈراموں کے کرداروں کے نام پر بھی عینک پہننے والے بچوں کو چھیڑا جاتا ہے۔
سوڈا واٹر کی بوتل
اگر کسی کی نظر زیادہ کمزور ہو اور عینک کے شیشے موٹے ہوں تو لوگ اس کی عینک کو بوتل کے پیندے سے تشبیہ دینے لگتے ہیں۔
عینک سے جڑے میرے تجربات
مجھے خود بھی عینک کے حوالے سے کئی ایسے تجربات ہوئے ہیں۔ ایک وقت میں مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ جہاں بھی جاؤں، لوگ میری عینک پر کوئی نہ کوئی تبصرہ ضرور کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے کچھ عرصے کے لیے عینک لگانا چھوڑ دی، لیکن اس دوران نظر مزید کمزور ہو گئی اور آخرکار میرے لیے عینک کے بغیر گزارا کرنا مشکل ہو گیا۔

کچھ نوجوان لڑکیوں کو تو عینک کے حوالے سے شادی جیسے معاملات میں بھی تبصرے سننے پڑتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں کہا جاتا ہے کہ عینک پہننے سے ان کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے یا رشتہ دیکھنے والے آئیں تو عینک اتار لینا۔ ایسے تبصرے بظاہر مذاق میں کیے جاتے ہیں، لیکن کسی کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
عینک کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ گھر میں تو عینک لگاتے ہیں لیکن باہر جاتے وقت اسے اتار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے انہیں دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، مگر بعض لوگ اب بھی عینک کو ضرورت کے بجائے فیشن سمجھتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں بعض خواتین بھی عینک کو زیور یا فیشن سمجھتے ہوئے پوچھتی ہیں کہ عینک کیوں لگائی ہے۔
عینک ٹوٹنے اور گم ہونے کے واقعات
ایک مرتبہ میں گاڑی میں سفر کر رہی تھی اور میری عینک نئی تھی۔ اس کا شیشہ کافی زیادہ نمبر کا تھا۔ اچانک عینک کا ایک شیشہ ٹوٹ کر میری گود میں گر گیا۔ جب میں نے اسی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو سب کچھ دھندلا نظر آیا۔

ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ شاید میری آنکھ کی بینائی ہی ختم ہو گئی ہے۔ گھر کے قریب پہنچ کر جب میں نقاب درست کر رہی تھی تو انگلی آنکھ سے لگی، تب معلوم ہوا کہ عینک کا شیشہ ہی نکل کر گر گیا تھا۔
عینک گم ہونا بھی عینک استعمال کرنے والوں کے لیے ایک عام مسئلہ ہے۔ ایک دن میں نے منہ دھوتے وقت عینک اپنے سر پر رکھ لی اور پھر پورے کمرے اور گھر میں عینک تلاش کرتی رہی۔ آخرکار میرے بیٹے نے کہا، ’’ماما، عینک تو آپ کے سر پر ہے۔‘‘

میرے شوہر بھی اکثر اپنی عینک کہیں رکھ کر بھول جاتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ پورے گھر والوں کو مل کر تلاش کرنا پڑتا ہے اور ڈھنڈورا پیٹنا پڑتا ہے کہ عینک آخر گئی کہاں؟
عینک ضرورت ہے، مذاق نہیں
عینک نظر کو واضح کرنے کے لیے ایک ضروری سہارا ہے، لیکن اسے استعمال کرنے والوں کو روزمرہ زندگی میں کئی چھوٹی بڑی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ عینک کبھی ٹوٹ جاتی ہے، کبھی گم ہو جاتی ہے اور کبھی اس کے شیشے دھندلے ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے طنزیہ جملے بھی سننے پڑتے ہیں۔

خاص طور پر لڑکیوں کو عینک کے حوالے سے شادی اور خوبصورتی سے متعلق تبصرے سننے پڑیں تو یہ بات صرف مذاق تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عینک کسی کی کمزوری یا مذاق کی وجہ نہیں بلکہ واضح دیکھنے کے لیے ایک ضرورت ہو سکتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
