عمران علی یوسفزئی

 

موسمیاتی تبدیلی، بے وقت بارشوں، درجہ حرارت میں اچانک اتار چڑھاؤ اور فصلوں پر کیڑے مار ادویات کے استعمال نے مردان میں شہد کی مکھیوں کی پرورش سے وابستہ افراد کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ 

 

مکھی پالنے والے رستم کے رہائشی 55 سالہ  شمس الرحمان کا کہنا ہے کہ موسم میں غیر معمولی تبدیلی کے باعث پھولوں کی دستیابی اور مکھیوں کی قدرتی خوراک متاثر ہوتی ہے جس کا براہ راست اثر شہد کی پیداوار پر پڑتا ہے شمس الرحمان اور دیگر کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق شہد کی مکھیوں کی بہتر پرورش کے لیے موسم کے مطابق مناسب جگہ کا انتخاب ضروری ہے۔

 

 سردیوں میں نسبتا گرم جبکہ گرمیوں میں ٹھنڈی سایہ دار اور پرسکون جگہوں پر چھتے رکھے جاتے ہیں جبکہ پانی کی دستیابی بھی مکھیوں کی پرورش کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

 

 ان کے مطابق جب قدرتی خوراک کم ہو تو مکھیوں کو ضرورت کے مطابق چینی کا محلول فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ پھولوں کا موسم شروع ہونے پر چھتے ان علاقوں میں منتقل کیے جاتے ہیں جہاں پھولوں اور سبزے کی وافر دستیابی ہو اس دوران مکھیاں پھولوں سے رس اور گردہ حاصل کرتی ہیں جس سے شہد تیار ہوتا ہے۔

 

 

مکھی پالنے والوں کا کہنا ہے کہ مختلف پھولوں سے حاصل ہونے والے شہد کے ذائقے اور خصوصیات میں بھی فرق ہوتا ہے جبکہ قدرتی خوراک مکھیوں کی صحت اور شہد کی پیداوار کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

 

زرعی ادویات سے مکھیوں کو خطرات

 

مردان کے مکھیوں پالنے والے کا کہنا ہے کہ فصلوں پر کیڑے مار ادویات کے اسپرے کے دوران شہد کی مکھیوں کو خاص خطرات لاحق ہوتے ہیں اگر اسپرے کے دوران مناسب احتیاط نہ کی جائے تو مکھیوں کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ پولینیشن کے قدرتی عمل پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ 

 

مکھی پالنے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کو زرعی ادویات کے محفوظ استعمال، خصوصا پھولوں کے موسم میں اسپرے کے حوالے سے مناسب آگاہی فراہم کی جائے تاکہ مکھیوں اور فصلوں دونوں کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

 

افغان شہد مکھیاں  پالنے والوں کا کردار 

 

مردان کے شہد کاروبار سے وابستہ حضرات کہتے ہیں کہ پاکستان میں شہد کی مکھیوں کی پرورش کے شعبے میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے بھی ماضی میں خدمات انجام دیں اور اس کاروبار سے متعلق تجربہ مقامی سطح پر منتقل کیا ان کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد اس شعبے سے وابستہ بعض افراد افغانستان واپس منتقل ہوئے تاہم مقامی مکھی پالنے والوں نے یہ کام جاری رکھا اور شہد کی پیداوار کا سلسلہ برقرار رکھا

 

مکھی پالنے والوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہد کی مکھیوں کی پرورش کے شعبے سے وابستہ افراد کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور انہیں تکنیکی رہنمائی، ضروری ادویات اور دیگر سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کی جائے۔

 

 ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات سرحدی راستوں کی بندش یا ترسیل میں مشکلات کے باعث مکھیوں کے لیے درکار ضروری ادویات بروقت دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے مکھی پالنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر حکومت اس شعبے کے لیے مؤثر پالیسی مرتب کرے، زرعی ادویات کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی بڑھائے اور مکھی پالنے والوں کو تکنیکی و مالی معاونت فراہم کرے تو شہد کی پیداوار میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔

شہد کی  پیداوار اور معیشت 

 

 شہد کی مکھیوں کی پرورش نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ شہد کی پیداوار اور اس سے وابستہ کاروباری سرگرمیاں ملکی معیشت میں بھی حصہ ڈالتی ہیں۔

 

 

شہد کے کاروبار سے وابستہ  جلال خان ( فرضی نام)  کے مطابق پاکستان میں تیار ہونے والا شہد بیرونِ ملک، خصوصا خلیجی ممالک کی مارکیٹوں تک بھی پہنچتا ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ حکومتی سرپرستی، بہتر سہولیات اور جدید تربیت کی فراہمی سے اس شعبے کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے، جس سے مکھی پالنے والوں کی آمدن اور شہد کی پیداوار میں اضافے کے امکانات  پیدا ہوں گے۔