وفاقی حکومت کی جانب سے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف ضلع خیبر بھر میں تاجروں کی مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ احتجاج کے باعث لنڈی کوتل، جمرود، باڑہ، تیراہ اور سخی پل سمیت ضلع بھر کے بڑے بازار مکمل طور پر بند ہیں۔
تاجروں نے وفاقی حکومت کے ٹیکسز کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ فاٹا اور پاٹا میں عائد تمام ٹیکسز فوری طور پر واپس لیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں سرکاری گندم کی فراہمی شروع، 20 کلو آٹے کی نئی قیمت مقرر
احتجاج کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر پہلے ہی بے روزگاری، محدود کاروباری سرگرمیوں اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں نئے ٹیکسز کا نفاذ مقامی آبادی اور کاروباری طبقے پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں کسی بھی نئے ٹیکس کی ادائیگی ممکن نہیں، اس لیے وفاقی حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ٹیکسز واپس لے۔
تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
