ضلع کرم میں نادرا کے تمام دفاتر مسلسل آٹھویں روز بھی بند رہے، جس کے باعث شناختی کارڈ، ب فارم اور دیگر ضروری دستاویزات کے حصول کے لیے آنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہری گزشتہ کئی روز سے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، تاہم ہر شام مایوس ہو کر واپس لوٹ رہے ہیں۔

 

نادرا ذرائع کے مطابق وسطی کرم کے علاقے تڑالی میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے نادرا ٹیم کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کے خلاف نادرا ملازمین گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاج کر رہے ہیں، جس کے باعث ضلع بھر میں نادرا کے ساتوں دفاتر بند ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ، پی ڈی ایم اے نے کن اضلاع کو الرٹ جاری کیا؟ 

 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ ایک علاقے میں پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے کو بنیاد بنا کر پورے ضلع کے نادرا دفاتر بند کرنا عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ احتجاج ملازمین کا حق ہے، تاہم جہاں مسئلہ درپیش ہے احتجاج بھی وہیں تک محدود ہونا چاہیے، کیونکہ پورے ضلع کے عوام کو اس کی سزا دینا کسی طور مناسب نہیں۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا جلد از جلد حل نکال کر نادرا دفاتر دوبارہ کھولے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

 

دوسری جانب ضلع کرم سے رکن قومی اسمبلی اور مجلس وحدت مسلمین کے پارلیمانی لیڈر انجینئر حمید حسین نے کہا کہ ضلع کرم میں گزشتہ دو برس سے مرکزی شاہراہ کی بندش، طویل عرصے سے 3G اور 4G سروس کی معطلی، بار بار انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کی بندش کے بعد اب نادرا دفاتر کی بندش نے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ ان کے مطابق عوام پر اس نوعیت کی خود ساختہ پابندیاں مزید قابل قبول نہیں ۔

 

ادھر کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم بلا شاہ کا کہنا ہے کہ مرکزی شاہراہ کو مکمل طور پر بحال کرنے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عمائدین کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔