پشاور میں نانبائی برادری نے 130 گرام روٹی کی قیمت 30 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے موجودہ نرخوں پر نظرثانی نہ کی تو نانبائی دکانیں بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔
انجمن پختونخوا نانبائی ایسوسی ایشن ضلع پشاور کے چیئرمین رحیم صافی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نرخوں پر روٹی فروخت کرنا نانبائیوں کے لیے ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ مہنگی گیس، پٹرول، بجلی، آٹے اور دیگر اخراجات کے باعث تندور چلانا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ان تمام مسائل سے ضلعی انتظامیہ کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے۔

رحیم صافی نے کہا کہ حکومت کو بخوبی علم ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اگر 130 گرام روٹی کی قیمت 30 روپے مقرر کی جائے تو ہی نانبائی برادری سکھ کا سانس لے سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں تندور کے سامنے کئی کئی گھنٹے کام کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، لیکن اس تمام محنت کے باوجود اگر مناسب منافع نہ ملے تو کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ ان کے بقول، “اگر نانبائی اتنی سخت مشقت بھی کرے اور پھر بھی اسے منافع نہ ملے تو ایسی دکان چلانے کا کیا فائدہ؟”
چیئرمین نانبائی ایسوسی ایشن کے مطابق اس وقت 80 کلو سپر فائن آٹے کی بوری 13 ہزار روپے، فائن آٹے کی بوری 12 ہزار روپے جبکہ 20 کلو سپر فائن آٹے کا تھیلا 3,100 روپے تک پہنچ چکا ہے، مگر روٹی اب بھی پرانے نرخوں پر فروخت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن نے اخراجات کا جائزہ لینے کے لیے ایک چھوٹی تندور دکان کا مکمل حساب کتاب کیا، جس سے معلوم ہوا کہ تمام اخراجات نکالنے کے بعد دکان منافع کے بجائے نقصان میں جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک چھوٹی دکان کی یہ صورتحال ہے تو بڑے تندوروں کے اخراجات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
رحیم صافی نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ایسوسی ایشن کے وفد نے ڈپٹی کمشنر پشاور سے ملاقات کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شہر میں مختلف مقامات پر 100، 110 اور 160 گرام وزن کی روٹی فروخت ہو رہی ہے، اس لیے وزن اور قیمت دونوں کے حوالے سے یکساں پالیسی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے معاملہ راشننگ کنٹرولر کے سپرد کرتے ہوئے سروے کرانے کی ہدایت کی، تاہم ایسوسی ایشن کا مطالبہ واضح ہے کہ 130 گرام روٹی کی قیمت 30 روپے مقرر کی جائے تاکہ نانبائیوں کو بڑھتے ہوئے اخراجات کے مطابق مناسب ریلیف مل سکے۔
رحیم صافی نے مزید کہا کہ نانبائی برادری کی جانب سے ایسوسی ایشن پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آنے والے دنوں میں حکومت نے مناسب نرخ مقرر نہ کیے تو نانبائی دکانیں بند کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔
دوسری جانب محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے صوبے کی فعال فلور ملوں کے لیے روزانہ 2 ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ محکمہ خوراک کے مطابق 100 کلوگرام گندم 11 ہزار 200 روپے کے حساب سے فراہم کی جائے گی، جبکہ تقسیم 2026 کے منظور شدہ ایس او پیز اور اضلاع کی آبادی کے تناسب سے ہوگی۔
محکمہ خوراک نے ہدایت کی ہے کہ تمام فعال فلور ملوں میں کم از کم 30 روز کی ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا لازمی ہوگا، جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
