جب تشدد کو ہر حال میں جرم مان لیا گیا ہے، تو انصاف کا راستہ اتنا کٹھن کیوں ہے؟ اور ہر نیا قانون صرف کاغذوں تک محدود کیوں رہ جاتا ہے؟

 

قومی اسمبلی کی رکن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکن شرمیلا فاروقی نے پارلیمنٹ میں ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 پیش کیا، جس کی منظوری بھی دے دی گئی۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف قانون بن جانا ہی کافی ہے؟

 

اس بل کے تحت بیوی یا کسی بھی خاتون کو دباؤ کا شکار بنانا، خوف یا تکلیف میں رکھنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، جذباتی، نفسیاتی یا مالی طور پر ہراساں کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کا اطلاق صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ عورتوں کے ساتھ ساتھ بچوں، مردوں، بزرگوں، خواجہ سرا، معذور افراد، لے پالک اور گھر کے دیگر افراد پر بھی ہوگا۔

 

یہ بھی پڑھیں:  ذاتی انتخاب، ذاتی رہنے دو

 

قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بیوی کو اس کی مرضی کے بغیر شوہر کے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، اس کی پرائیویسی اور عزتِ نفس مجروح کرنا بھی قابلِ سزا جرم ہوگا۔

 

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے پہلے قوانین موجود نہیں تھے؟

پاکستان پینل کوڈ میں پہلے ہی تیس سے زائد دفعات اور قوانین موجود ہیں جو خواتین پر ہونے والے مظالم کی روک تھام کے لیے بنائے گئے تھے۔ مثال کے طور پر Section 498-A کے تحت کسی عورت کو اس کی وراثت سے محروم کرنا جرم ہے، جس کی سزا دس سال تک قید ہے۔ Section 498-C کے مطابق کسی عورت کی زبردستی شادی کروانا جرم ہے۔

اسی طرح انسدادِ ہراسانی قانون 2010 کام کی جگہ پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا۔

 

ان تمام قوانین کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ آج بھی اکثر عورتیں وہ تمام مظالم خاموشی سے سہہ رہی ہیں جو شوہر اور سسرال ان پر ڈھاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عورت کو ہر حال میں “گھر بسانے” کا سبق پڑھایا جاتا ہے، اور اگر بچے بھی ہوں تو طلاق کا تصور ہی اس کے لیے گناہ بنا دیا جاتا ہے۔

 

معاشرتی دباؤ اور رویے عورت کو ہر طرح کا تشدد برداشت کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ خوف کہ لوگ کیا کہیں گے، بچے کہاں جائیں گے، میکے والے بوجھ سمجھ کر دھتکار دیں گے یہ سب خدشات اس کے قدم باندھ دیتے ہیں۔

 

نتیجتاً وہ کسی نکھٹو، نشئی یا بے روزگار شوہر کے ساتھ بھی ساری زندگی گزار دیتی ہے۔ گھروں میں جھاڑو پونچھا کر کے یا معمولی ملازمت کر کے پورے خاندان کا بوجھ اٹھاتی ہے، ذہنی اور جسمانی تشدد سہتی ہے، صرف اس لیے کہ اس پر “طلاق یافتہ” ہونے کا داغ نہ لگ جائے۔

 

تیسری اور نہایت اہم وجہ مالی وسائل کی کمی ہے۔ اکثر عورتیں یہ سوچ کر خاموش رہتی ہیں کہ کم از کم دو وقت کی روٹی، سر پر چھت اور نام نہاد عزت تو محفوظ ہے۔

 

اور سب سے سنگین مسئلہ ہمارا عدالتی نظام ہے، جو اس قدر سست روی کا شکار ہے کہ انصاف ملتے ملتے سالوں لگ جاتے ہیں، اور بعض اوقات انصاف ملتا ہی نہیں۔ ایک عورت جو بدنامی کے خوف سے خاموش رہتی ہے، کیا وہ ایسے نظام میں جا کر قانونی جنگ لڑنے کی ہمت کر پائے گی؟ 

 

جسمانی تشدد کے زخم تو دکھا کر ثابت کیے جا سکتے ہیں، مگر کوئی عورت شوہر، سسرال یا کسی بھی قریبی رشتے دار کی طرف سے ہونے والا ذہنی اور نفسیاتی تشدد کیسے ثابت کرے گی؟ عدالت تو ثبوت مانگتی ہے، احساس نہیں۔

 

یہ قانون پڑھتے ہوئے مجھے ایک پاکستانی ڈرامہ یاد آ گیا، جس میں عمیر رانا اور نادیہ خان میاں بیوی کا کردار ادا کر رہے تھے۔ غصے میں شوہر بیوی کو تھپڑ مارتا ہے، اور بیوی اسے جیل بھجوا دیتی ہے۔ سسرال فوراً طلاق کا مطالبہ کرتا ہے۔ نادیہ اپنے بچے کے ساتھ بھائی کے گھر چلی جاتی ہے، جہاں بھابھی کے طعنے سہہ کر آخرکار نوکری کرنے لگتی ہے۔ بالآخر گھر اور باہر کے مسائل سے تنگ آ کر وہ شوہر سے صلح کر لیتی ہے۔

 

سچ یہ ہے کہ حقیقی زندگی میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہوتی ہے۔

فرض کیجیے کسی خاتون نے ہمت کر کے شوہر کو سزا دلوا بھی دی—تو کیا وہ جیل سے نکل کر سدھر جائے گا؟ کیا وہ  بیوی کو  پیار اور عزت دے گا؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اکثر صورتوں میں وہ اپنی طاقت اور انا کا زور پہلے سے زیادہ دکھاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں مرد کی انا کو بیوی کا مہذب جواب بھی برداشت نہیں ہوتا، وہاں قانونی کارروائی کو وہ کیسے قبول کرے گا؟

 

اب ذرا اس عورت کی زندگی پر غور کیجیے، جو بچوں سمیت بے گھر اور بے آسرا ہو جائے گی۔ آج کی مہنگائی میں تو اچھے خاصے لوگ اپنا گھر نہیں چلا پا رہے، تو مزید دو یا تین افراد کے اخراجات کون اٹھائے گا؟

 

اور اگر کوئی عورت ہمت کر کے الگ رہنے کا فیصلہ بھی کر لے، اور نوکری مل بھی جائے، تو وہ مسلسل دو کشتیوں کی سوار بنی رہتی ہے۔ گھر میں رہے تو مالی وسائل ختم، اور نوکری کرے تو بچوں کے تحفظ کا خوف۔

 

اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا نظامِ عدل اتنا مضبوط اور مؤثر ہو کہ عورت کو مغربی ممالک کی طرح یہ یقین ہو سکے کہ شکایت کرنے سے اس کی زندگی مزید خراب نہیں بلکہ بہتر ہوگی۔ اگر شوہر چھوڑ بھی دے تو حکومت اسے شیلٹر، روزگار، بچوں کی تعلیم، صحت اور تحفظ کی ذمہ داری لے۔

 

صرف قانون بنانے سے کچھ نہیں ہوگا، اصل ضرورت ان قوانین پر عمل درآمد کی ہے۔ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں مجرم کو واقعی سزا ملے، کیونکہ جب سزا یقینی ہوگی تب ہی جرائم کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ ورنہ کاغذوں پر بنے قوانین کسی بھی شخص کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔