ضلع خیبر کی سیاسی اتحاد باڑہ نے متاثرینِ تیراہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے وادی تیراہ میں فوری اور پائیدار امن کی بحالی، بے گھر خاندانوں کی باعزت واپسی اور ریاستی وعدوں پر عملی عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ 

 

اتحاد نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں بھرپور احتجاجی تحریک اور 13 ہزار 744 گاڑیوں پر مشتمل احتجاجی مارچ کی وارننگ بھی دے دی ہے۔

 

سیاسی اتحاد باڑہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے فوجی آپریشنز، شیلنگ، ڈرون کارروائیوں اور مسلسل بدامنی کے باعث تیراہ میدان سے نقل مکانی کرنے والے خاندان گزشتہ کئی برسوں سے بنیادی سہولتوں ، عدم تحفظ اور شدید مشکلات کا شکار ہیں، حالانکہ متاثرین نے ہر دور میں ریاست کے ساتھ تعاون، صبر اور قربانی کی مثالیں قائم کیں۔

 

یہ بھی پڑھیں:  وادی تیراہ کی خواتین، ریاستی توجہ کی منتظر

 

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ متاثرینِ تیراہ کا مسئلہ کسی ایک قبیلے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی اور قومی مسئلہ ہے، جس کے حل میں مزید تاخیر ناقابل قبول ہے۔

 

سیاسی اتحاد باڑہ نے وادی تیراہ میں فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر گولے برسائے جانے اور ہیلی کاپٹر کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ اتحاد نے متاثرینِ تیراہ کی باعزت واپسی، مکمل رجسٹریشن اور تمام وعدوں و معاہدوں پر تحریری و عملی عمل درآمد پر زور دیا۔

 

اعلامیے میں متاثرین کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

 

اس کے ساتھ ساتھ تیراہ کے بلند علاقوں میں گھروں کے درست پتے نہ رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز کا اسٹیٹس دے کر امدادی پیکیجز میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

 

سیاسی اتحاد باڑہ نے پولیٹیکل انتظامیہ اور نادرا کی من پسند اور خودساختہ رجسٹریشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل کے باعث حقیقی متاثرین محروم ہو رہے ہیں۔

 

اعلامیے میں وادی تیراہ کے بعد اپر باڑہ اور بازو پین ایریا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کنٹرول کا مطالبہ کیا گیا۔ اغوا برائے تاوان، دھمکی آمیز کالز اور شہریوں میں پھیلتے خوف کے خاتمے کے لیے حکومت سے آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

 

قیامِ امن کے لیے سیاسی اتحاد باڑہ نے آج سے باڑہ میں امن تحریک کے آغاز کا اعلان کیا تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے متاثرینِ تیراہ سے متعلق غیر سنجیدہ بیانات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ دونوں حکومتیں مل بیٹھ کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں۔

 

اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر مطالبات پر فوری اور عملی عمل درآمد نہ ہوا تو متاثرینِ تیراہ اور ضلع خیبر کے عوام کے ساتھ مل کر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

 

اعلامیے کے آخر میں کہا گیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں سیاسی اتحاد باڑہ مرکزی حکومت، وزیراعلیٰ ہاؤس اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے متاثرین کی 13 ہزار 744 گاڑیوں کے ہمراہ احتجاجی مارچ کرے گا۔

 

خیبر قومی جرگہ میں سیاسی اتحاد باڑہ کے صدر ہاشم خان، جنرل سیکرٹری عطاء اللہ، شیریں آفریدی، سابق ایم پی اے شفیق آفریدی، اے این پی کے عبدالرزاق، فاٹا لویہ جرگہ کے صدر ملک بسم اللہ، جماعت اسلامی کے شاہ فیصل اور خان ولی آفریدی، پی ٹی آئی کے عابد آفریدی، مسلم لیگ (ن) کے اصغر آفریدی، ملک محمد حسین سمیت کثیر تعداد میں عمائدین اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔