پشاور میں پانی کے بلوں کی ادائیگی نہ ہونے کا مسئلہ بڑھ رہا ہے، جہاں 22 ہزار سے زائد صارفین کے بقایاجات کی مجموعی رقم 84 کروڑ 21 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز (ڈبلیو ایس ایس پی) حکام کے مطابق نادہندگان میں گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کمرشل پلازے اور مارکیٹ مالکان بھی شامل ہیں، اور کچھ صارفین نے گزشتہ 12 سال سے اپنے بل ادا نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپا وائرس کیا ہے اور پاکستان میں اس کے پیش نظر الرٹ کیوں جاری کیا گیا؟
یہ نادہندگان پشاور کی 42 یونین کونسلز میں مختلف علاقوں کے رہائشی ہیں۔ ادارے کے مطابق، پشاور میں موجود 545 ٹیوب ویلز سے شہریوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے، جن پر ماہانہ اوسط بجلی کا بل تقریباً 13 کروڑ روپے بنتا ہے۔ صارفین کی جانب سے بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث ادارے کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے اور مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ڈبلیو ایس ایس پی حکام نے نادہندہ صارفین کو متعدد وارننگ نوٹسز جاری کیے ہیں اور مالی دباؤ کم کرنے کے لیے بقایاجات پر 10 فیصد رعایت کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ صارفین دوبارہ نیٹ میں آئیں اور ادارے کے مالی معاملات بہتر ہو سکیں۔
شہروں کا کہنا ہے کہ اگر بڑے نادہندگان کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو پانی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، اور ادارے کی مالی مضبوطی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے شہریوں کا انحصار ٹیوب ویلز کے پانی پر ہے، جس کی مستقل فراہمی کے لیے ادارے کی مالی صحت برقرار رکھنا ضروری ہے۔
