پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اساتذہ کے نمائندوں طفیل احمد اور فرحانہ درانی نے بتایا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے باقاعدہ معاہدوں کے تحت افغان مہاجرین کیمپوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے تھے، تاہم گزشتہ ماہ انہیں رات کی تاریکی میں فون کرکے ملازمتوں سے فارغ کردیا گیا۔

 

طفیل احمد کا کہنا تھا کہ یو این ایچ سی آر نے افغان بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی، لیکن اب ادارے نے 291 اساتذہ اور ان کے بچوں کا مستقبل تاریک کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمتوں سے فارغ کرتے وقت نہ گریجویٹی دی گئی اور نہ ہی دیگر واجبات ادا کیے گئے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ اپنے واجبات کے حصول کے لیے متعدد درخواستیں دے چکے ہیں، تاہم ادارے کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا جا رہا اور نہ ہی ملازمتیں ختم کرنے کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔

 

طفیل احمد کے مطابق متاثرہ اساتذہ گزشتہ تین روز سے یو این ایچ سی آر کے پشاور دفتر کے باہر احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں، لیکن ان سے مذاکرات کے بجائے پولیس کے ذریعے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

 

 

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خاتون ٹیچر فرحانہ درانی نے کہا کہ اساتذہ کو پہلے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد ان کا مکمل خیال رکھا جائے گا اور انہیں مالی فوائد بھی فراہم کیے جائیں گے، تاہم بعد میں ادارے نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ 291 مرد و خواتین اساتذہ کو رات گئے فون کرکے کسی قسم کے مالی فوائد دیے بغیر ملازمتوں سے فارغ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو پاکستانی بچوں کا مستقبل روشن کرنے کے بجائے افغان بچوں کو تعلیم دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی اور اب ان کے اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

 

فرحانہ درانی نے کہا کہ اساتذہ کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے اور بعض متاثرہ اساتذہ دل کے امراض میں بھی مبتلا ہیں، جن کے لیے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرنا بھی مشکل ہوچکا ہے۔

 

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی، جبکہ ادارے کو ڈالرز میں ملنے والی رقم کے مقابلے میں اساتذہ کو انتہائی کم تنخواہیں ادا کی جاتی رہیں۔

 

متاثرہ اساتذہ نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر یو این ایچ سی آر سے بات کی جائے اور انہیں گریجویٹی سمیت تمام قانونی و معاہدے کے تحت واجبات دلوائے جائیں۔

 

اساتذہ نے واضح کیا کہ یو این ایچ سی آر سے انصاف اور اپنے واجبات کی ادائیگی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔