خیبر پختونخوا میں محکمہ ریلیف اور اس کے ماتحت اداروں کی گزشتہ 13 سال کے دوران لاپتہ اور ناقابلِ سراغ سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات طلب کرلی گئیں۔

 

مشیر گورنر خیبر پختونخوا برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، ریلیف، بحالی و آبادکاری ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف کی سرکاری گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مبینہ طور پر لاپتہ اور غیر حساب شدہ گاڑیوں کے ذمہ دار افسران و اہلکاروں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 

ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف کے زیرِ استعمال تمام سرکاری گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز، کمپنیوں، ماڈلز اور انہیں استعمال کرنے والے افسران و اہلکاروں کے ناموں اور عہدوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کے سرکاری محکموں کے بجٹ اور اخراجات میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ میں انکشاف

 

انہوں نے ہدایت کی کہ مبینہ طور پر لاپتہ اور غیر حساب شدہ گاڑیوں کے ذمہ داران کو نوٹس جاری کیے جائیں اور متعلقہ افسران و اہلکار 72 گھنٹوں کے اندر سرکاری گاڑیاں واپس پیش کریں، بصورتِ دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

مشیر گورنر نے محکمہ ریلیف کو تمام معلومات کی تصدیق کے بعد پانچ روز میں مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری گاڑیاں اور دیگر وسائل عوام کی امانت ہیں، ان کے تحفظ اور درست استعمال پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اثاثوں کے ریکارڈ میں شفافیت اور جوابدہی یقینی بنانا اولین ترجیح ہے، جبکہ سرکاری وسائل کے غیر ضروری استعمال، غفلت اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔