خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں معمولی تنازع پر مبینہ تشدد سے 13 سالہ طالب علم جاں بحق ہوگیا، پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ تحصیل اتمانخیل کے علاقے قذافی سیرئی کی ایک مسجد میں پیش آیا، جہاں مقتول ارشد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مقیم تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم تکبیراللہ نے ارشد کو استعمال کے لیے رومال دیا تھا، واقعے کے روز رومال نہ ملنے پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس پر ملزم نے مبینہ طور پر ارشد کو مکوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق تشدد کے دوران ارشد کا سر دیوار سے ٹکرایا، جس سے وہ شدید زخمی ہوکر بے ہوش ہوگیا۔ اسے مقامی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق بچے کے سر، کندھوں اور جسم کے مختلف حصوں پر تشدد اور کاٹنے کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم تکبیراللہ کو گرفتار کرکے دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ عدالت نے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
آر پی او ملاکنڈ زاہد نواز اور ڈی پی او باجوڑ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے میرٹ پر تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
