خیبرپختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ملک میں یاک کی نایاب نسل کے تحفظ اور افزائش کے لیے ایک اہم منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پاک افغان سرحد کے قریب بروغل کے بلند ترین علاقے میں صوبے کا پہلا یاک ریسرچ اسٹیشن قائم کیا جائے گا۔

 

بجٹ دستاویزات کے مطابق یاک ریسرچ اسٹیشن 100 کنال اراضی پر تعمیر کیا جائے گا اور یہ منصوبہ تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے پر ایک سال کے دوران 30 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیے: نوشہرہ: رسالپور اکیڈمی کا تربیتی طیارہ حادثے کا شکار، دو افسران شہید

 

دستاویزات کے مطابق ریسرچ اسٹیشن میں ابتدائی طور پر 50 یاک رکھے جائیں گے، جہاں ان کی افزائش نسل، تحقیق اور تحفظ پر کام کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نایاب ہوتی یاک نسل کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 

 

بجٹ دستاویزات کے مطابق اس وقت خیبرپختونخوا میں یاک کی مجموعی تعداد صرف ایک ہزار 923 رہ گئی ہے، جس کے باعث اس نسل کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ایک یاک کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے 4 لاکھ روپے تک ہے۔

 

حکومت کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف یاک کی نسل کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ یاک سے حاصل ہونے والا گوشت، دودھ، چمڑا اور بال مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گے، جبکہ علاقے میں تحقیقی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔