خولہ زرا فشاں 

 

خیبر پختونخوا میں جماعت نہم و دہم کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوتے ہی ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ اس سال حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی پالیسی کے تحت طلبہ و طالبات کے امتحانی مراکز ان کے اپنے اسکولوں کے بجائے دور دراز علاقوں میں مقرر کیے گئے ہیں۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد نقل کی روک تھام ہے، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔

 

پہلی نظر میں یہ پالیسی ایک مثبت قدم محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں نقل ایک سنجیدہ مسئلہ رہا ہے۔ مگر جب اس کے عملی اثرات کو دیکھا جائے تو صورتحال خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ایک ہی اسکول کے طلبہ کو مختلف امتحانی مراکز میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جس نے نہ صرف طلبہ بلکہ ان کے والدین کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

 

خاص طور پر وہ گھرانے جہاں ایک سے زائد بچے امتحان دے رہے ہیں، ان کے لیے یہ پالیسی ایک بڑا امتحان بن گئی ہے۔ مختلف اوقات اور الگ الگ مقامات پر بچوں کو پہنچانا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ میرے اپنے گھر کی مثال لے لیں، جہاں تین بچے امتحان دے رہے ہیں اور تینوں کے مراکز مختلف جگہوں پر ہیں۔ ایک ہی وقت میں تینوں کو ان کے متعلقہ مراکز تک بروقت پہنچانا تقریباً ناممکن محسوس ہوتا ہے۔

 

صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے میں موسم نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ بارشوں کا جاری سلسلہ، خراب سڑکیں، اور ٹریفک کے مسائل اس مشکل کو دوچند کر دیتے ہیں۔ ایسے میں والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ طلبہ خود بھی پریشانی اور بے چینی محسوس کر رہے ہیں، جو ان کی کارکردگی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

 

والدین کا مؤقف بھی خاصا واضح ہے۔ ان کے مطابق نقل کی روک تھام کے لیے یہ طریقہ کار زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔ اگر واقعی نقل کو ختم کرنا مقصود ہے تو بہتر نگرانی، اضافی عملہ، اور سخت انسپکشن جیسے اقدامات زیادہ کارگر ہو سکتے ہیں۔ حکومت کے پاس وسائل اور تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہیں، جنہیں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

اساتذہ بھی اس پالیسی سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ ایک ٹیچر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے طلبہ کی نگرانی کے لیے مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کرے۔ اس سے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

 

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ پالیسی حکومتی دعوؤں سے بھی متصادم دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف پٹرول کی بچت اور اخراجات کم کرنے کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف طلبہ کو دور دراز مراکز میں بھیج کر سفری اخراجات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ تضاد عوام کے لیے مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔

 

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد مثبت ہے، لیکن اس کا نفاذ عوامی مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی حکمت عملی اپنائے جو نقل کی روک تھام کے ساتھ ساتھ طلبہ، والدین اور اساتذہ—سب کے لیے آسانی کا باعث بنے۔ کیونکہ تعلیم کا مقصد سہولت فراہم کرنا ہے، مشکلات پیدا کرنا نہیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔