نازیہ سالارزئی
سکول بچوں کا دوسرا گھر ہوتا ہے۔ اگر سکول کا ماحول خوشگوار، محفوظ اور دوستانہ ہو تو بچے خوشی اور شوق سے وہاں جاتے ہیں، لیکن اگر سکول کا ماحول اچھا نہ ہو تو بچے سکول جانے سے کترانے لگتے ہیں۔
بچوں کا آدھے دن سے بھی زیادہ وقت سکول میں گزرتا ہے، جہاں انہیں صرف تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ ان کی تربیت، کردار سازی اور شخصیت کی نشوونما بھی کی جاتی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جب سکول میں جسمانی فرق رکھنے والے بچوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو وہ مایوسی، تنہائی اور خود کو دوسروں سے کم سمجھنے لگتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جدید دور کے نوجوان ذہنی دباؤ میں کیوں مبتلا ہیں؟
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لوگوں کو، چاہے وہ کسی جسمانی فرق یا مسئلے کا سامنا کر رہے ہوں یا نہیں، مختلف ناموں سے پکارنا ایک عام بات بن چکی ہے۔
اکثر لوگ کسی کی دل آزاری کو برا نہیں سمجھتے بلکہ مذاق کے نام پر دوسروں کی بے عزتی کرتے ہیں۔ بعد میں یہ کہہ کر بات ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ "میں تو صرف مذاق کر رہا تھا، خفا نہ ہوں۔" مگر مذاق کرنے والے کو شاید یہ احساس نہیں ہوتا کہ جو بات اس کے لیے چند لمحوں کی ہنسی کا سبب تھی، وہ سامنے والے کے دل پر گہرا اثر چھوڑ سکتی ہے۔
یاد رکھیں، مذاق کرنے والا اپنی بات بھول جاتا ہے لیکن جس کا مذاق اڑایا جاتا ہے وہ اسے برسوں نہیں بھول پاتا۔ بعض اوقات ایک جملہ یا ایک نام پوری زندگی انسان کے ذہن میں رہ جاتا ہے اور اس کے اعتماد کو متاثر کرتا رہتا ہے۔
جسمانی فرق رکھنے والے بچے اکثر اپنے اردگرد کے رویوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض بچے پہلے ہی اپنی جسمانی حالت کی وجہ سے مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
جب انہیں سکول میں بار بار غلط ناموں سے پکارا جاتا ہے تو ان کی تکلیف کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ وہ کلاس میں بات کرنے، سوال پوچھنے یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے سے گھبرانے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ خود کو دوسروں سے الگ محسوس کرنے لگتے ہیں۔
ہمارے سکولوں میں اکثر ایسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں جو بظاہر معمولی لگتے ہیں لیکن حقیقت میں بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ اگر کسی بچے کی آنکھیں ٹیڑھی ہوں تو اسے "بھینگا" کہا جاتا ہے۔ عینک پہننے والے بچے کو "چشمہ" یا "چشماٹو" کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

اگر کوئی بچہ کم سن سکتا ہو تو اسے "بہرا" کہا جاتا ہے، اور اگر کسی کو چلنے میں دشواری ہو تو اسے "لنگڑا" کہہ دیا جاتا ہے۔ ایسے الفاظ نہ صرف بچوں کے دل کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ ان کی خود اعتمادی کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔
بعض اوقات بچے یہ الفاظ ہنسی مذاق میں استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کے ایک جملے سے کسی کا پورا دن خراب ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا بچہ جو پہلے ہی کسی جسمانی فرق یا مسئلے کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہا ہو، جب اپنے ہم جماعتوں کی طرف سے بار بار مذاق اور بے عزتی کا شکار بنتا ہے تو اس کی تکلیف اور بڑھ جاتی ہے۔
یہ رویے بچوں کی تعلیم پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ جب کسی بچے کو روزانہ اس کی جسمانی کمزوری یا فرق یاد دلایا جائے تو اس کا دل پڑھائی سے اُچٹنے لگتا ہے۔ وہ سکول آنے سے گھبراتا ہے، کلاس میں کم حصہ لیتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے سے کتراتا ہے۔ بعض بچے تو صرف اس خوف سے اپنی قابلیت چھپا لیتے ہیں کہ کہیں ان کا مذاق نہ اڑایا جائے۔
سکول میں بار بار مذاق اور بے عزتی کا سامنا کرنے والے بچوں کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ ان کا اعتماد کم ہو جاتا ہے اور وہ دوسروں سے ملنا جلنا بھی کم کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب انہیں عزت، محبت اور حوصلہ افزائی ملتی ہے تو وہ زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

سکول میں مذاق اڑانے والے بچوں کو اکثر اس وقت مزید حوصلہ ملتا ہے جب بڑے یہ کہہ کر بات ٹال دیتے ہیں کہ "بچے ہیں، سمجھ جائیں گے" یا "یہ تو معمولی بات ہے"۔ لیکن جس بچے کا روزانہ مذاق اڑایا جاتا ہے، اس کے دل پر کیا گزرتی ہے، اس کا اندازہ کم ہی لوگ کر پاتے ہیں۔ سکول کے دنوں میں سنی گئی تلخ باتیں اکثر زندگی بھر یاد رہتی ہیں۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دوسروں کا احترام کرنا سکھائیں اور یہ سمجھائیں کہ کسی کی جسمانی حالت، کمزوری یا فرق اس کا مذاق اڑانے کی چیز نہیں۔
انہیں چاہیے کہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ جسمانی فرق رکھنے والے بچوں کے ساتھ دوستی کریں، انہیں کھیلوں اور سرگرمیوں میں شامل کریں اور انہیں تنہا محسوس نہ ہونے دیں۔ ایک اچھا دوست کسی بچے کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
اسی طرح اساتذہ کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ انہیں بچوں کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ ہر انسان عزت اور احترام کا مستحق ہے۔ اگر کوئی بچہ دوسروں کا مذاق اڑائے تو اس کی بروقت رہنمائی کی جائے۔
اساتذہ کو جسمانی فرق رکھنے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور انہیں کلاس کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں تاکہ وہ خود کو دوسروں سے کم نہ سمجھیں۔
یاد رکھیں، کسی بچے کی جسمانی حالت یا ظاہری فرق اس کی پہچان نہیں ہوتا۔ اس کی اصل پہچان اس کا کردار، محنت، صلاحیتیں اور خواب ہوتے ہیں۔ ہر بچہ عزت، محبت اور برابری کے سلوک کا حق دار ہے۔
سکول ایسا مقام ہونا چاہیے جہاں ہر بچہ خود کو محفوظ، قابلِ قدر اور قابلِ احترام محسوس کرے۔ ایسا ماحول جہاں بچے ایک دوسرے کو قبول کرنا سیکھیں، نہ کہ ایک دوسرے کا مذاق اڑائیں۔
اگر والدین، اساتذہ اور طلبہ مل کر احترام، ہمدردی اور برداشت کو فروغ دیں تو سکول واقعی سیکھنے اور بہترین انسان بننے کی جگہ بن سکتے ہیں۔کیونکہ سکول سیکھنے کی جگہ ہے، مذاق اڑانے کی نہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
