پاکستان میں  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ سیکٹر میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافے اور ممکنہ ہڑتالوں کا عندیہ دے دیا ہے۔

 

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کو سختی سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث پہلے ہی لاکھوں افراد بیروزگار ہو چکے ہیں، اور اگر فوری نظرِ ثانی نہ کی گئی تو ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

 

دوسری جانب پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے بھی ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں حالیہ اضافے کے تناسب سے کرایوں میں اضافہ ممکن نہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ٹرانسپورٹرز کے لیے کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔

 

ادھر حکومت نے گزشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے مقرر کر دی گئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

 

وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیرِ خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ان اضافوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے معاشی مجبوریوں کے تحت کیے گئے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اس بڑے اضافے کے اثرات نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔