عارف احمد
خیبرپختونخو کے ضلع سوات کے علاقے سیدو شریف شگئی میں ایک خاتون کی جانب سے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد معاملہ پیچیدہ صورت اختیار کر گیا۔
خاتون نے پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے فضل حکیم خان کے بھتیجے گران باچا پر مبینہ تشدد اور بدسلوکی کا الزام عائد کیا ہے، تاہم نامزد شخص نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جبکہ پولیس رپورٹ بھی مختلف مؤقف پیش کر رہی ہے۔
متاثرہ خاتون، جو خود کو خاپیرئی ظاہر کرتی ہے، نے ایک مقامی صحافی کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ اسے گران باچا نے اپنے ڈھیرے پر بلایا اور بعد ازاں ایک سرکاری بنگلے میں منتقل کیا، جہاں اس پر مبینہ تشدد کیا گیا۔ خاتون کے مطابق واقعے کے دوران دیگر افراد بھی موجود تھے، جن میں میاں نامی شخص اور وقاص شامل ہیں۔
خاتون نے مزید الزام لگایا کہ تشدد کے بعد اسے گاڑی میں ڈال کر سوات سیرینا ہوٹل کے قریب لے جایا گیا، جہاں اس پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی گئی اور اسے زخمی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ بعد ازاں ہسپتال میں بھی بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔
متاثرہ خاتون نے پولیس پر بھی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بیان اور ایف آئی آر میں رد و بدل کیا گیا اور اصل ملزمان کے نام شامل نہیں کیے گئے، جبکہ مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا۔
دوسری جانب گران باچا نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
پولیس ذرائع کے مطابق سیدو شریف تھانے میں نازش نامی خاتون کی رپورٹ درج ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ رات کے وقت گھر جا رہی تھی کہ اللہ چوک کے قریب ایک نامعلوم گاڑی نے اسے ٹکر مار دی اور فرار ہو گئی۔ رپورٹ میں کسی بھی شخص کو نامزد نہیں کیا گیا۔
واقعہ سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جہاں متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حساس نوعیت کے اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔
