خیبرپختونخوا حکومت نے علاقائی صورتحال، پٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت اور معاشی دباؤ کے پیش نظر ایندھن کی بچت کے لیے دو ماہ کے ہنگامی اقدامات کی منظوری دے دی۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر ضروری ایندھن کے استعمال میں کمی، معاشی سرگرمیوں کے تسلسل اور عید کے دوران عوامی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے متعدد انتظامی اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کا اخراجات اور ایندھن بچانے کے لیے اہم اعلان
محکمہ انتظامیہ کے مطابق ڈیجیٹل گورننس کے فروغ کے لیے تمام سرکاری اجلاس بطور ڈیفالٹ آن لائن منعقد ہوں گے جبکہ صوبائی اور ضلعی سطح کے جائزہ اجلاس بھی ورچوئل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ای آفس سسٹم کے سو فیصد استعمال کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ سرکاری فائلوں کی فزیکل نقل و حرکت ختم ہو سکے۔
حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی کا بھی فیصلہ کیا ہے اور تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایندھن کے استعمال میں کم از کم 25 فیصد کمی کی جائے۔ تاہم پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریسکیو 1122 کی گاڑیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
کابینہ کے فیصلوں کے تحت سرکاری محکمے ضروری خدمات متاثر کیے بغیر 50 فیصد تک ورک فرام ہوم کی اجازت بھی دے سکیں گے جبکہ بین الاضلاع سرکاری سفر اور پروٹوکول میں بھی کمی کی جائے گی۔ سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال صرف ہنگامی حالات تک محدود رکھا جائے گا۔
اخراجات میں کمی کے لیے غیر ضروری فرنیچر اور آلات کی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سیمینارز، ورکشاپس اور سرکاری عشائیے دو ماہ کے لیے معطل رہیں گے۔
ایندھن کی بچت کے لیے صوبے بھر میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے جمعہ اور ہفتہ کو بند رہیں گے جبکہ جامعات کو ہائبرڈ یا آن لائن کلاسز کی ترغیب دی جائے گی۔ اسی طرح شادی ہالز، پلازوں اور بازاروں میں آرائشی روشنیوں کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
حکومت نے گندم کی کٹائی کے دوران ڈیزل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور پٹرول پمپس پر ایندھن کے اسٹاک کی سخت نگرانی کی بھی ہدایت کی ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
