وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس رات گئے تک جاری رہا، جس میں مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ، صوبے کے آئینی و مالی حقوق اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوامی مفادات اور ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو سرپلس نہیں رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ سال 2026-27 خیبرپختونخوا میں ترقی، امن اور عوامی خوشحالی کا سال ہوگا اور تمام رکاوٹوں کے باوجود صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: تاج محمد آفریدی کون تھے اور عوامی خدمت میں ان کا کردار کیا تھا؟
پارلیمانی پارٹی نے صوبائی بجٹ سے متعلق آئینی و قانونی امور کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین قانون پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ ٹیم ممکنہ آئینی اور قانونی آپشنز کا جائزہ لے کر صوبے کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے جامع قانونی لائحہ عمل تیار کرے گی۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی نے وفاق کے خلاف سیاسی اور قانونی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بجٹ پر اثرانداز ہونے یا صوبے کے حقوق سلب کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا کے ترقیاتی فنڈز میں وفاقی سطح پر کسی بھی قسم کی کٹوتی یا اس حوالے سے کوئی فیصلہ متعلقہ قیادت سے مشاورت کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اگر صوبے کے حقوق متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو وفاقی حکومت کو سخت سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پارلیمانی پارٹی نے اسلام آباد میں احتجاج کے دوران مبینہ طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق لاٹھی چارج کے نتیجے میں مینا خان آفریدی، ڈاکٹر حمید، طفیل انجم اور داؤد آفریدی سمیت متعدد ارکان اسمبلی زخمی ہوئے جبکہ بعض ارکان کو فریکچر بھی آئے۔
اجلاس میں پارلیمانی پارٹی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ عمران خان کو کس قانونی جواز کے تحت تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان سے ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی گئی ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے کہا کہ اگر ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو ماہرین قانون کی تشکیل کردہ ٹیم اس صورتحال کے تناظر میں بھی تمام آئینی و قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
