زالان خان آفریدی 

 

افغانستان میں پھنسے تقریباً 1600 پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی محفوظ اور باعزت وطن واپسی کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ طورخم بارڈر پر آمد و رفت کو منظم بنانے کے لیے نیا اوقات کار مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے تحت بارڈر مینجمنٹ نظام کو فوری طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک افغانستان سے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی واپسی ہوگی، جبکہ دوپہر 2 بجے سے رات 8 بجے تک پاکستان سے افغانستان جانے والی گاڑیوں کی روانگی جاری رہے گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونا پھر مہنگا، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

 

اجلاس میں افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ، فرنٹیئر کور کے لیفٹیننٹ کرنل محمد عارف، ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) بلال راؤ، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

 

اجلاس میں اس امر پر تشویش ظاہر کی گئی کہ تقریباً آٹھ ماہ سے 1600 کے قریب پاکستانی گاڑیاں، ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی فوری اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

 

 

کمشنر پشاور ڈویژن نے ہدایت کی کہ اجلاس کے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر متعلقہ اداروں کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے نئے بارڈر مینجمنٹ نظام کو عملی شکل دیں۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے تحفظ اور سہولت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور افغان حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مسئلہ جلد حل کیا جا سکے۔

 

ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے اقدامات کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔