اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کی خاتون لیکچرار کے ساتھ بدتمیزی کے واقعے کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے تین طلباء کو معطل کر دیا ہے۔

 

کالج کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسپلنری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں واقعے میں تین طلباء کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، جس پر انہیں دو ہفتے کے لیے معطل کیا گیا ہے۔

 

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ معطل طلباء کو ڈسپلنری کمیٹی کے حتمی فیصلے تک یونیورسٹی میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی اور کمیٹی کو مقررہ وقت میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: شمالی وزیرستان میں 17 مئی سے جاری سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں اب تک کتنے دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں

 

دوسری جانب ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن کے مطابق معاملے پر جاری ہڑتال موخر کر دی گئی ہے جبکہ 8 جون تک تمام تعلیمی سرگرمیاں بحال رہیں گی۔

 

یاد رہے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور انتظامیہ کے مطابق خاتون لیکچرر کے ساتھ ہراسانی کا یہ واقعہ 12 مئی کو دوپہر کے وقت ٹیسٹ کے دوران پیش آیا تھا۔

 

جس کے  بعد خاتون لیکچرر نے وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا کہ شعبہ نباتات میں وہ طلبہ سے ٹیسٹ لے رہی تھیں کہ اس دوران آدھے سے زائد لڑکے کلاس روم میں کھڑے ہوگئے اور ٹیسٹ دینے سے انکار کر دیا۔ طلبہ نے سوالات پر مشتمل پرچے پھاڑ کر ٹیچر کی جانب پھینک دیے۔

 

خط کے مطابق بدتمیزی کرنے والے طلبہ کمرے سے باہر نکل گئے اور ٹیچر سمیت طالبات کو اندر بند کر دیا۔ بعد ازاں کچھ طلبہ دوبارہ واپس آئے، کلاس روم میں داخل ہو کر دھمکیاں دیں اور انہیں دوپہر 12 بجے تک گھیرے رکھا۔